حکومت کا آئی ایس پی آر کی طرز پر پولیس ترجمان مقرر کرنے کا فیصلہ ، بڑا مشورہ دے دیا گیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیر مملکت موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا ہے کہ پالیسی بیان دینے کیلئے آئی ایس پی آر کی طرز پر پولیس ترجمان بنایا جائے، خواتین کو پارلیمنٹ میں ٹریکٹر ٹرالی اور وربل ڈائری کہا جاتا ہے، خواتین کی ویڈیوز بنا کر ان کو بلیک میل کیا جاتا ہے، قانون کے تحت

متاثرہ خواتین اور بچوں کا نام صیغہ راز میں رہنا چاہیے۔انہوں نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ موٹروے واقعہ کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کیلئے استعمال کیا گیا ہے۔ یہاں پر بحث کی گئی کہ موٹروے کس نے بنائی۔ متاثرہ خاتون کے سر پر ہاتھ رکھنے کی بجائے زیادتی کی گئی۔ خواتین نے انسانوں کو دیکھ کر راستے بدلنے ہیں تو پھر انسانوں اور جانوروں میں کیا فرق ہے؟ بار بار جرم اس لیے ہورہا ہے کہ کیونکہ ملزمان کی پکڑ نہیں ہورہی ہے۔زرتاج گل نے کہا کہ پارلیمنٹ میں خواتین کو برے القابات سے پکارا جاتا ہے۔ خواتین کو پارلیمنٹ میں ٹریکٹر ٹرالی اور وربل ڈائری کہا جاتا ہے۔ خواتین کی ویڈیوز بنا کر ان کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔ ہمیں کیسز کو روکنے کیلئے پارلیمنٹ میں قانونی سقم پر بحث کرنا ہوگی۔ پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے کہ شرعی قوانین کو کیسے لے کر آگے جایا جائے۔ کسی بھی واقعے میں متاثرہ خواتین اور بچوں کا نام صیغہ راز میں رکھا جانا چاہیے۔ہمیں ملک میں شعور اجاگر کرنے کیلئے بیداری مہم چلانا ہوگی۔اسی طرح سینیٹ اجلاس میں سانحہ موٹروے کے حوالے سے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ پاکستان میں کوئی انسانی حقوق نہیں ،ہمارے بچے اور خواتین محفوظ نہیں، موٹروے اتنا بڑا واقعہ ہو گیا وزیر انسانی حقوق ایوان میں نہیں۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ پاکستان میں کوئی انسانی حقوق نہیں ہیں، ملک میں ڈاکو اور ریپسٹس راج ہے۔مشتاق احمد نے کہا کہ ہمارے بچے اور خواتین محفوظ نہیں ہیں، اتنا بڑا واقعہ ہو گیا وزیر انسانی حقوق ایوان میں نہیں، ابھی تک انسانی حقوق کمیشن کے ارکان کا تعین نہیں ہوا۔ وزیر مملکت علی محمد خان نے کہاکہ موٹروے والے واقعے کا وزیر اعظم نے فوری نوٹس لیا، میں نے قومی اسمبلی میں ریپسٹس کو سر عام پھانسی کی قرارداد پاس کرائی۔ انہوںنے کہاکہ ملک میں ڈاکو اور ریپسٹس راج نہیں ہے۔

loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *