افواہوں کا ڈراپ سین :سی آئی اے پولیس شاباش کی مستحق ٹھہری ۔۔۔ کس طرح سے عابد ملہی کو گرفتار کیا گیا ؟ حقائق سامنے آگئے

لاہور (ویب ڈیسک) سانحہ موٹر وے کیس کے معاملے میں خالد بٹ نامی شہری نے کہا ہے کہ عابد ملہی کو سی آئی اے ماڈل ٹائون کی ٹیم نے پکرا تھا اور میری ہی گاڑی میں مجرم کو تھانے پہنچایا گیا۔ مرکزی ملزم عابد ملہی کے گرفتار10رشتہ داروں کورہا کردیا گیا۔ رہا ہونے والوں میں

عابد ملہی کی والدہ، بہن اور دیگر رشتہ دار شامل ہیں۔ یہ تمام لوگ ایک ماہ سے سی آئی اے کی تحویل میں تھے ۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کی ہدایت پر انہیں رہا کیا گیا ۔ دوسری طرف عابد ملہی کو تھانے اپنی گاڑی پر لیجانے والے خالد بٹ نامی شہری نے پولیس کے ہا تھو ں عا بد کی گرفتاری کی خبر کی تصدیق کر دی جبکہ عابد ملہی کے والد نے کہا تھا کہ عابد ملہی نے گرفتاری خود خالد بٹ کے ذریعے دی تھی۔خالد بٹ نے ایک ویڈیو بیا ن میں کہا ہے کہ عابد ملہی کی گرفتاری پولیس کی کاوشوں اور محنت کا نتیجہ ہے ۔ سی آئی اے ماڈل ٹائون کی ٹیم نے عابد ملہی کو گرفتار کیا ہے ۔سی آئی اے ماڈل ٹائون کی ٹیم ایک ماہ سے عابد ملہی کے سامنے والے گھر کی چھت پر جبکہ کچھ اہلکار گھر کے ساتھ فصلوں میں بھی موجود تھے ۔مجھے ڈی ایس پی کا فون آیا کہ پولیس نے عابد ملہی کو گرفتار کر لیا ہے آپ اپنی گاڑی لے کر پہنچیں۔عابد کی گرفتاری کے دوران پولیس نے دو فائر بھی کئے ۔لاہور پولیس والوں نے کہا ہمارے پاس گاڑی نہیں آپ اپنی گاڑی عابد کو تھانے پہنچا دیں،ملزم کو میں نے اپنی گاڑی میں تھانے پہنچایا۔یاد رہے کہ کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی سی پی او) لاہور عمرشیخ اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس پی سی آئی اے) عاصم افتخار کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ذرائع کے مطابق جھگڑے کے دوران میٹنگ میں موجود دیگر افسران نے بیچ بچائو کرایا۔ذرائع کے مطابق موٹروے گینگ ریپ کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کے معاملے پر اعتماد میں نہ لینے پر سی سی پی او عمر شیخ ایس پی سی آئی اے پر برہم ہوئے۔ذرائع کے مطابق سی سی پی او عمر شیخ اور ایس پی عاصم افتخار میں تلخ جملوں کاتبادلہ ہوا۔سی سی پی او نے ایس پی سی آئی اے کو سیف سٹی اتھارٹی طلب کیا تھا جہاں دونوں میں تلخ کلامی ہوئی، اس کے بعد ایس پی سی آئی اے عاصم افتخار میٹنگ چھوڑ کرچلےگئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سی سی پی او نے ایس پی سی آئی اے کو مقدمہ درج کرنے کی دھمکی دی جس پر ایس پی سی آئی اے نے کہا کہ میں سپاہی نہیں ہوں جو مقدمہ درج کریں گے۔اس حوالے سے مؤقف جاننے کیلئے سی سی پی او لاہور عمر شیخ سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تاہم انہوں نے واقعے کے بارے میں بات کرنے سے انکار کردیا اور صرف نو کمنٹس کہا۔

loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *