14 دن قرنطینہ میں رہنے کے بعد ہمایوں سعید اب کہاں اور کس حال میں ہیں؟

لاہور (ویب ڈیسک) معروف اداکار ہمایوں سعید 14 دن قرنطینہ میں رہنے کے بعد گھر واپس آگئے ہیں جس کا اعلان انہوں نے سوشل میڈیا پر کیا ہے۔پاکستان شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے معروف اداکار ہمایوں سعید نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ایک تصویر شیئر کی، اداکار کی جانب سے شیئر کی

جانےوالی تصویر میں وہ اپنے گھر میں موجود ہیں۔ہمایوں سعید نے ٹوئٹر پر یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’آخر کار 14دن قرنطینہ میں رہنے کے بعد آج میں گھر واپس آگیا ہوں۔‘اداکار نے لکھا کہ ’اِس دوران میں نے زندگی پر غور و فکر کرنے میں بہت زیادہ وقت صرف کیا ہے۔‘انہوں نے لکھا کہ’اور مجھے یہ احساس ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنی بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں کہ میں ان نعمتوں کا شکر بھی ادا نہیں کرسکتا ہوں۔‘ہمایوں سعید نے سوالیہ انداز میں لکھا کہ’کیا انشا اللہ اِس مشکل وقت میں ہم مستحق لو گوں کی مدد کے لیے ہر ممکن طاقت اور طریقے سے کام کریں گے۔‘واضح رہے کہ ہمایوں سعید گزشتہ ماہ امریکا سے پاکستان آئے تھے جس کے بعد انہوں نے احتیاط کے طور پر خو کو قرنطینہ کردیا تھا۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق معروف برطانوی ٹی وی میزبان اور سابق گلیمر ماڈل و فحش اداکارہ لنڈا لسرڈی بھی کورونا وائرس کا شکار ہوئیں اور اب صحت مند ہونے کے بعد انہوں نے اس بیماری کی ایسی تفصیلات بیان کر دی ہیں کہ سن کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ ڈیلی سٹار کے مطابق 61سالہ لنڈا لسرڈی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا کہ ”کورونا وائرس کی ابتلاءکے دن میری زندگی کے سب سے دردناک دن تھے۔ میرے سینے میں اتنی تکلیف ہوتی تھی کہ میں موت کی خواہش کرنے لگی تھی۔ جب میری تھوڑی سی آنکھ لگنے لگتی تو میں سوچتی کہ کاش میں اس نیند سے دوبارہ نہ اٹھ سکوں اور موت کے منہ میں چلی جاﺅں۔“لنڈا لسرڈی کا کہنا تھا کہ ”مجھے اور میرے 51سالہ شوہر سام کین کو ایک ساتھ کورونا وائرس لاحق ہوا تھا اور ہم دونوں کی حالت ہی ایسی ہوئی۔ ہسپتال جانے سے پہلے تک ہماری حالت بہت تشویشناک ہو چکی تھی۔ سام بھی اتنی ہی تکلیف میں تھا اور وہ بھی موت کی دعا کرتا تھا۔ بالآخر جب ہمیں ایمبولینسیں گھر سے لینے آئیں تو ہم نے ایک دوسرے کو اس حسرت سے دیکھا کہ جیسے ایک دوسرے کو آخری بار دیکھ رہے ہوں۔ ہم جتنی تکلیف میں تھے، ہمیں امید نہیں تھی کہ ہم زندہ واپس لوٹیں گے اور دوبارہ ایک دوسرے سے ملیں گے۔میں نے سام کی آنکھوں دیکھا اور کہا کہ ’اب یہ تکلیف مجھ سے اور برداشت نہیں ہوتی۔‘ان دنوں میں مجھے سانس لینے میں اتنی تکلیف ہوتی تھی کہ ایسے لگتا تھا جیسے شیطان اپنے ہاتھوں سے میرا گلا گھونٹ رہا ہو۔“واضح رہے کہ سام کو ایک بزنس میٹنگ کے دوران کسی شخص سے وائرس لاحق ہوا تھا۔ اس وقت ابھی برطانیہ میں لاک ڈاﺅن نہیں ہوا تھا۔ سام گھر آیا تو اس نے لاعلمی میں لنڈا کو وائرس منتقل کر دیا۔

loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *