آٹے کا شدید بحران۔۔۔ 3 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کیلئے حکومت نے بالآخر کس کا دروازہ کھٹکھٹا دیا؟ تازہ ترین خبر آگئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ملک میں آٹے کے بحران کے پیش نظر 3 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی سربراہی میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا ۔ جس میں ملک میں جاری گندم

کے بحران پر تبادلہ خیال ہوا۔ کمیٹی کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاسکو اور پنجاب کے پاس 41 لاکھ ٹن گندم کے ذخائر موجود ہیں، کمیٹی نے آٹے کی قلت پر قابو پانے کے لئے پنجاب اور پاسکو کو فوری طور پر گندم جاری کرنے کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے 3 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی بھی منظوری دے دی، گندم درآمد کرنے کی اجازت 31 مارچ تک کیلئے دی گئی ہے جب کہ درآمدی گندم کی پہلی کھیپ 15 فروری تک پاکستان پہنچے گی۔واضح رہے کہ چند ماہ قبل ای سی سی نے ہی گندم برآمد کرنے کی منظوری دی تھی جس کے بعد 6 لاکھ ٹن گندم دیگر ملکوں کو برآمد کی گئی تھی۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق ملک میں آٹے اور گندم کے بحران کی آڑ میں شوگر مافیا نے چینی کے نرخ میں بھی اضافہ کردیا۔ کرشنگ سیزن جاری ہونے کے باوجود 100کلو چینی کی بوری 500روپے مہنگی کردی گئی جس کے نتیجے میں ایک بوری کی قیمت 6ہزار8سو60سے بڑھاکر 7ہزار3سو40روپے کردی گئی۔ فی کلو چینی ہول سیل میں 75روپے جبکہ پرچون میں 80روپے کلو تک فروخت ہونے لگی۔عالمی مارکیٹ میں چینی کے ریٹ 50روپے فی کلو سے بھی کم ہیں اور اس ریٹ پر عالمی منڈیوں سے خریدی گئی چینی پاکستانی مارکیٹ میں 100کلو بوری 5ہزار800روپے کی پڑے گی۔چینی کی قیمت میں اچانک اضافے پر انتظامیہ خاموش اور ذخیرہ اندوز متحرک ہیں اور انہوں نے چینی کو اسٹاک کرنے کے لیے اربوں روپے لگا دیے۔ پنجاب میں 10 ملین میٹرک ٹن کرشنگ ہو چکی ہے اور 10 لاکھ 51 ہزار ٹن چینی کے ذخائر موجود ہیں۔ مصنوعی گھن چکر کو نہ روکا گیا تو قیمت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔واضح رہے کہ ملک میں زیادہ تر شوگر ملز سیاسی شخصیات کی ہیں جن میں حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاست دان بھی شامل ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *